کورونا وائرس کی دوسری لہر، چین کے ایک اور بڑے شہر میں لاک ڈاؤن نافذچین میں مزید 4.9 ملین لوگ لاک ڈاؤن سے متاثر ہوں گے، تشویش میں اضافہ

بیجنگ کورونا وائرس کی دوسری لہر کے پیش نظر چین کے ایک اور شہر میں لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق بیجنگ کے آس پاس کے علاقوں میں کورونا وائرس کے پیش نظر نئی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ لاک ڈاؤن سے متاثر ہونے والے باشندوں کی تعداد 4.9 ملین ہے۔ نئے انفیکشن کے پھیلاؤ نے چینی باشندوں کی تشویش میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔تاہم نئے کیسز سامنے آنے پر ایک سال قبل معاشی بحران کا سامنا کرنے والی چین کی مقامی انتظامیہ نے معاشی بحران کی روک تھام کے لیے نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ نیشنل ہیلتھ کمیشن نے منگل کے روز کورونا کے 55 نئے کیسز کی تصدیق کی، جبکہ ایک روز قبل کورونا کے کیسز کی تعداد 103 تھی۔ بیجنگ کے اوائل میں موجود ہیبی صوبہ میں 40 سے 42 مقامی طور پر منتقل ہونے والے انفیکشنز کے کیسز رپورٹ ہوئے۔مقامی انتظامیہ کے مطابق 4.9 ملین چینی باشندے سات روز کے لیے قرنطینہ میں رہیں گے اور ان سب کا کورونا ٹیسٹ کیا جائے گا۔ لانگ فانگ کی حدود میں آنے والے دو کاؤنٹیز نے پہلے ہی گھروں میں قرنطینہ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ ان میں سے ایک کاؤنٹی میں ایک کیس رپورٹ ہوا جبکہ دوسری کاؤنٹی میں کورونا کا ایک کیس بھی رپورٹ نہیں ہوا۔ چین میں اس وقت کئی صوبوں میں لاک ڈاؤن نافذ ہے۔خیال رہے کہ دنیا بھر میں کورونا وائرس کا سب سے پہلا کیس چین میں رپورٹ ہوا تھا۔ عالمی ادارہ صحت کی ویب سائٹ کے مطابق چین میں کووڈ 19 کا پہلا مصدقہ کیس 8 دسمبر کو سامنے آیا تھا مگر یہ بھی واضح ہے کہ عالمی ادارہ کسی مرض کی بنیاد کا سراغ خود نہیں لگاتا بلکہ ممالک کی فراہم کردہ معلومات پر انحصار کرتا ہے۔ جبکہ چینی حکومتی ڈیٹا کے مطابق 17 نومبر کو یہ ممکنہ پہلا مریض سامنے آیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *