نواز شریف کووطن واپس بھیجنے کی درخواست پر برطانیہ نے جواب دیدیا ، پاکستانیوں کیلئے بڑی خبر

اسلام آباد (مانیٹر نگ ڈیسک) نواز شریف کی وطن واپسی کیلئے بھیجی گئی درخواست پر برطانوی وزارت داخلہ نے کیا جواب دیا؟ نجی خبر رساں ادارے کا دعویٰ ہے کہ حکومت پاکستان کی جانب سے نواز شریف کو پاکستان

واپس لانے کیلئے برطانیہ کو خط لکھا جس کے جواب میں برطانوی وزیر داخلہ پریتی پٹیل نے کہا کہ برطانوی حکومت بین الاقوامی قانون کی پابند ہے اورمسلمہ قانونی اصولوں کے منافی کچھ نہیں کرسکتی۔ پاکستان نے 
برطانوی ہائی کمشنر کے توسط سے بھیجے گئے ایک خط میں نواز شریف کو پاکستان واپس بھیجنے کی درخواست کی ،لیکن برطانوی وزیرداخلہ کی جانب سے دیئے گئے جواب سے ظاہر ہوتا ہے کہ برطانیہ نواز شریف کو ڈی پورٹ کرنے پر غور نہیں کرے گا۔ برطانوی وزیر داخلہ نے یہ بات ضرور کہی ہے کہ اگر پاکستان کی جانب سے نواز شریف کو پاکستان واپس بھیجنے کی باقاعدہ درخواست موصول ہوئی تو برطانوی حکومت اس پر برطانوی قانون کے مطابق پوری توجہ دے گی۔ مشیر داخلہ و احتساب شہزاد اکبر نے کہا کہ پاکستان نے برطانیہ سے 1974 کے برطانیہ کے امیگریشن کے قانون کے تحت ملک بدری کی درخواست کی ہے جس کے تحت جس فرد کو 4 سال سے زیادہ قید کی سزا سنائی گئی ہو اسے اس کے ملک کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔ برطانوی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ عام طورپر ملک بدری کی درخواست کی سرکاری طور پر تصدیق اس وقت کی جاتی ہے جب متعلقہ فرد کو گرفتار کر کے حراست میں رکھا جائے۔ دراصل شہزاد اکبر کی جانب سے برطانوی پرواز کو پاکستان میں اترنے کی اجازت نہ دیئے جانے کے سبب دونوں ملکوں کے تعلقات میں تلخی پیدا ہو گئی ہے، نواز شریف کی وطن واپسی کیلئے بھیجی گئی درخواست پر برطانوی وزارت داخلہ نے کیا جواب دیا؟ نجی خبر رساں ادارے کا دعویٰ ہے کہ حکومت پاکستان کی جانب سے نواز شریف کو پاکستان واپس لانے کیلئے برطانیہ کو خط لکھا

جس کے جواب میں برطانوی وزیر داخلہ پریتی پٹیل نے کہا کہ برطانوی حکومت بین الاقوامی قانون کی پابند ہے اورمسلمہ قانونی اصولوں کے منافی کچھ نہیں کرسکتی۔ پاکستان نے برطانوی ہائی کمشنر کے توسط سے بھیجے گئے ایک خط میں نواز شریف کو پاکستان واپس بھیجنے کی درخواست کی ،لیکن برطانوی وزیرداخلہ کی جانب سے دیئے گئے جواب سے ظاہر ہوتا ہے کہ برطانیہ نواز شریف کو ڈی پورٹ کرنے پر غور نہیں کرے گا۔ برطانوی وزیر داخلہ نے یہ بات ضرور کہی ہے کہ اگر پاکستان کی جانب سے نواز شریف کو پاکستان واپس بھیجنے کی باقاعدہ درخواست موصول ہوئی تو برطانوی حکومت اس پر برطانوی قانون کے مطابق پوری توجہ دے گی۔ مشیر داخلہ و احتساب شہزاد اکبر نے کہا کہ پاکستان نے برطانیہ سے 1974 کے برطانیہ کے امیگریشن کے قانون کے تحت ملک بدری کی درخواست کی ہے جس کے تحت جس فرد کو 4 سال سے زیادہ قید کی سزا سنائی گئی ہو اسے اس کے ملک کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔ برطانوی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ عام طورپر ملک بدری کی درخواست کی سرکاری طور پر تصدیق اس وقت کی جاتی ہے جب متعلقہ فرد کو گرفتار کر کے حراست میں رکھا جائے۔ دراصل شہزاد اکبر کی جانب سے برطانوی پرواز کو پاکستان میں اترنے کی اجازت نہ دیئے جانے کے سبب دونوں ملکوں کے تعلقات میں تلخی پیدا ہو گئی ہے، 20اکتوبر کو اس پرواز کو اترنے کی اجازت نہ ملنے پر غیر قانونی پاکستانی امیگرنٹس کو واپس برطانیہ کے حراستی مراکز میں بھیج دیا گیا تھا۔پاکستان نے یہ شرط رکھی کہ ایک اور شخص نوازشریف برطانیہ میں غیرقانونی طور پر مقیم ہے اسے بھی وطن واپس بھیجا جائے۔ 20اکتوبر کو اس پرواز کو اترنے کی اجازت نہ ملنے پر غیر قانونی پاکستانی امیگرنٹس کو واپس برطانیہ کے حراستی مراکز میں بھیج دیا گیا تھا۔پاکستان نے یہ شرط رکھی کہ ایک اور شخص نوازشریف برطانیہ میں غیرقانونی طور پر مقیم ہے اسے بھی وطن واپس بھیجا جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *