میاں بیوی نے پالتو کتے سمیت جہاز سے چھلانگ لگا دی

اچانک جہاز سے اترنے پر مسافروں میں خوف و ہراس،میاں بیوی گرفتار

سننے میں تو حیران کن بات لگتی ہے کہ بغیر کسی وجہ کہ بیٹھے بٹھائے اچانک ہی میاں بیوی ایسے جہاز کے ایمرجنسی گیٹ سے چھلانگ لگا دیں جو کہ ٹیک آف کے لیے رن وے پر دوڑ لگا رہا ہے۔نہ صرف میان بیوی اڑنے والے جہاز سے نیچے کود گئے بلکہ ان کے ساتھ ان کا پالتو کتو بھی جہاز سے باہر چھلانگ لگا گیا۔جیسے ہی ان دونوں نے جہاز کے ایمرجنسی گیٹ سے چھلانگ لگائی تو جہاز میں بیٹھے باقی سبھی مسافر پریشان ہو گئے کہ انہیں ایسا کیا ہوا کہ اچانک ہی ایمرجنسی گیٹ سے چھلانگ لگا دی اور ساتھ میں ان کا پالتو کتا بھی باہر بھاگ گیا۔
نیویارک پوسٹ کی خبر کے مطابق یہ واقعہ نیویارک میں پیش آیا جہاں ڈولٹا ایئرلائنز کی فلائٹ 462جو کہ اٹلانٹا جانے کے لیے پرواز بھرنے کو تیار تھی اس میں سوار دو مسافروں نے ایسی حرکت کی جس پر ایئرپورٹ پر ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔

ایئرلائن کے ترجمان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ جہاز ابھی رن وے پر دوڑ رہاتھااورٹیک آف کی تیاری میں تھا کہ اچانک سے دو مسافروں جو کہ میاں بیوی ہیں انہوں نے ایمرجنسی گیٹ کھولتے ہوئے اپنے پالتو کتے سمیت باہر چھلانگ لگا دی جنہیں گرفتار کر لیا گیا۔

جب پولیس نے تفتیش کے دوران ان دونوں مسافروں سے یوں اچانک باہر چھلانگ لگانے کی وجہ پوچھی تو شوہر نے بتایا کہ انتہائی انگزیٹی کے اٹیک کے نتیجے میں وہ ایسا کرنے پر مجبور ہوا۔چونکہ وہ ڈپریشن کا مریض ہے اس لیے اسے ایک دم سے اٹیک ہوا اور اسے کچھ سمجھ نہیں آئی لہٰذا جان بچانے کے لیے اس نے باہر چھلانگ لگا دی۔جبکہ جہاز میں موجود ایک اور مسافر نے کہا کہ میاں بیوی اور ان کے کتے نے کئی بار سیٹ تبدیل کی اور یہ اضطرابی کیفیت میں تھے۔
نہ تو یہ دونون اور نہ ہی ان کا کتا کسی ایک سیٹ پر اطمینان سے بیٹھ رہے تھے اور پھر یہ اچانک جہاز سے باہر کود گئے۔جبکہ کریو ممبر نے انہیں کئی بار بیٹھ جانے کو کہا جب یہ کھڑے ہوئے تھے اور ان کے جواب میں اس شخص نے کہا کہ اگر میں سیٹ پر بیٹھ گیا تو میں چیخ پڑوں گا۔ تاہم انتظامیہ نے انہیں کریمنل چارجز لگاتے ہوئے جیل میں ڈال دیا ہے کیونکہ وہ کوئی بھی واضح اور معقول جواب دینے سے قاصر رہے تھے اور ان کی وجہ سے ساتھی مسافروں کو بڑی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *