مولانا فضل الرحمان اسلام آباد کی نشست کے لیے ن لیگ اور پی پی کی منت سماجت کررہے ہیں ،شہباز گِل فضل الرحمن پہلے کہتے تھے کسی صورت سینیٹ الیکشن نہیں ہونے دیں گے ،پی پی اور ن لیگ سے دھوکہ کھانے اور سافٹ وئیر اپ ڈیٹ کے بعد اب یہ سینیٹ کے الیکشن میں حصہ لینے کے فضائل بیان کر رہے ہیں

اسلام آباد وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی روابط ڈاکٹر شہباز گل نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان اسلام آباد کی دو میں سے ایک نشست کے لیے ن لیگ اور پی پی کی منت سماجت کررہے ہیں ۔ تفصیلات کے مطابق سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری اپنے پیغام میں ڈاکٹر شہباز گل نے کہا کہ’’فضل الرحمن، پی پی اور ن کی منت سماجت کر رہے ہیں کہ اسلام آباد کی دو سیٹوں میں سے ایک سیٹ ان کو دیں ۔
عمران خان نے نا صرف ان سب کی کرپشن نورا کشتی کو بے نقاب کیا بلکہ سیاسی مارکیٹ میں ان کو ان کی اصل قیمت “دو کے ساتھ ایک فری”پر لے آئے۔ نیا NRO تو نہیں اب خان پچھلے کا حساب بھی لے گا۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’فضل الرحمن پہلے کہتے تھے کسی صورت سینیٹ الیکشن نہیں ہونے دیں گے اور سندھ اسمبلی استعفی دے دے تو سینیٹ الیکشن نہیں ہو سکتے۔پی پی اور ن سے دھوکہ کھانے اور سافٹ وئیر اپ ڈیٹ کے بعد اب یہ سینیٹ کے الیکشن میں حصہ لینے کے فضائل بیان کر رہے ہیں-پی پی اور ن نے فضل کو موم کی گڑیا بنا ڈالا ۔‘‘واضح رہے کہ اپنے ایک بیان میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ سینیٹ انتخابات کے لیے ہمیں حکمت عملی طے کرنی ہوگی ، ہم نے سینیٹ انتخابات میں حصہ نہ لیا تو وہ بھی ان نااہلوں سے بھرجائے گا ، اگر استعفے آجاتے ہیں اور سندھ اسمبلی ٹوٹ جاتی ہے تو سینیٹ الیکشن نہیں ہو سکے گا ، ضمنی الیکشن میں عوام کی رائے صحیح طورپر سامنے آئی ہے ، لیکن حکمراں اپنے مستقبل سے بے پروا ہیں کیوں کہ ان کا مستقبل تاریک ہے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں کرپشن میں اضافہ ہواہے ، براڈ شیٹ نے حکومت کی کارکردگی کا پول کھولا ہے ، ملک کو مالی نقصان کس نے پہنچایا ، ذمہ دار یہی حکومت ہے ، اس لیے ملک میں دوبارہ انتخابات کرائے جائیں ، ملک میں ہر شعبہ زندگی حکومت کی نا اہلی سے متاثر ہے ، اگر اس ملک کو بچانا ہے تو اس حکومت سے نجات دلانا اہم ہے ، جس کے لیے پی ڈی ایم متحدہے ، اختلاف اور اختلاف رائے تو ہوتا رہتا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *