متحدہ عرب امارات کی جانب سے اسرائیل کے لیے مقرر کردہ سفیر نے حلف اُٹھا ..

دُبئی متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان گزشتہ سال ستمبر میں امن معاہدے پر دستخط ہو گئے تھے، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی، معاشی اور تجارتی میدانوں میں تیزی سے پیش رفت ہوئی ہے۔ دونوں ممالک کے دوران پہلی بار سفارتی تعلقات قائم ہوئے ہیں۔ العربیہ نیوز کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ اسرائیل کے لیے تعینات سفیر جلد اسرائیل روانہ ہو جائیں گے۔
گزشتہ روز حاکمِ دبئی اور متحدہ عرب امارات کے نائب صدر شیخ محمد بن راشد آل مکتوم نے اسرائیل میں مقرر کیے گئے ملک کے پہلے سفیر محمد محمود الخاجہ سے اتوار کوان کے عہدے کا حلف لیا ہے۔یواے ای کی کابینہ نے گذشتہ ماہ تل ابیب میں اپنا سفارت خانہ قائم کرنے کی منظوری دی تھی جبکہ اسرائیل نے ابوظبی میں اپنا سفارت خانہ کھولنے کا اعلان کیا تھا۔اسرائیل نے اپنا دارالحکومت مقبوضہ بیت المقدس میں قائم کررکھا ہے اور وہ اس متنازع شہر کو اپنا دائمی دارالحکومت قرار دیتا ہے جبکہ اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری اس کے اس دعوے کو تسلیم نہیں کرتی ہے۔سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا اور امریکی سفارت خانہ تل ابیب سے اس شہر میں منتقل کردیا تھا۔
چند ایک اور ممالک نے بھی اپنے سفارت خانے مقبوضہ بیت المقدس میں منتقل کیے ہیں جبکہ بیشتر ممالک تل ابیب ہی کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرتے ہیں اور انھوں نے وہیں اپنے سفارت خانے برقرار رکھے ہوئے ہیں۔واضح رہے کہ یو اے ای نے 13 اگست 2020ء کو اسرائیل کے ساتھ معمول کے سفارتی تعلقات استوار کرنے کے تاریخی امن معاہدے کا اعلان کیا تھا اور پھر اس کی روشنی میں 29 اگست کو ایک فرمان جاری کیا تھا ،اس کے تحت اسرائیل کے معاشی بائیکاٹ سے متعلق یو اے ای کے قانون کو منسوخ کردیا گیا تھا۔متحدہ عرب امارات اور اسرائیل نے 15 ستمبر کو وائٹ ہاوٴس میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں طے شدہ معاہد ابراہیم پر دست خط کیے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *