شہباز شریف تو وزیراعلیٰ پنجاب بھی رہا ہے اورمیں ایم این اے ہونے کے ساتھ ہیومن رائٹس کمیٹی کا چیئرمین ہوں،ہماری ملاقات کو کیسے روکا جا سکتا ہے؟

اسلام آباد گزشتہ روز سینیٹ الیکشن میں اسلام آباد کی سیٹ پر یوسف رضا گیلانی کی کامیابی کو پی ڈی ایم اپنی اب تک کی سب سے بڑی کامیابی تصور کر رہی ہے۔ یوسف رضا گیلانی ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے متفقہ امیدوار تھے لہٰذا دونوں پارٹیوں نے ان کی جیت کا جشن منایا۔لہٰذا یوسف رضا گیلانی کی جیت کی مبارکباد دینے کے لیے بلاول بھٹو شہباز شریف سے ملنے کے لیے ان کی رہائش گاہ پر گئے مگر پولیس اہلکاروں نے انہیں ملاقات کرنے سے روک دیا۔
اس معاملے کی ویڈیوا منظر عام پر آ چکی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بلاول بھٹو سابق وزیراعلیٰ شہباز شریف کی رہائشگاہ کے باہر پہنچے جہاں انہیں ن لیگ کے راہنما احسن اقبال نے خوش آمدید کہااور اپنے ساتھ لے کر میاں شہباز شریف کی رہائش گاہ کی طرف ا ٓگئے جن کے گیٹ کے باہر تعینات پولیس اہلکار سامنے آ گئے۔بلاول بھٹو نے بڑے اچھے انداز میں پولیس اہلکار کے ساتھ دعا سلام کی اور آنے کا مقصدبتایامگر پولیس اہلکار نے یہ کہتے ہوئے معذرت کرلی کہ شہباز شریف سے ملنے کے لیے آپ کو وزارت داخلہ سے اجازت لینا ہو گی۔اس پر بلاول بھٹو گویا ہوئے کہ شہباز شریف تو پنجاب کے وزیراعلیٰ بھی رہ چکے ہیں ان کی ملاقات تو بند نہیں ہونی چاہیے تھی اور دوسری بات یہ کہ میں ہیومن رائٹس کمیٹی کا چیئر مین ہوں میں اس بات کا نوٹس بھی لے سکتاہوں کہ قیدی سے ملنے سے کیسے اور کیوں روکا جا سکتا ہے۔تیسری بات یہ کہ میں ایم این اے ہوں اور کوئی بھی ایم این اے اس بات کا حق رکھتا ہے کہ وہ کسی بھی وقت کسی بھی جیل کا وزٹ کر سکتا ہے۔اس پر پولیس اہلکار خاموش کھڑارہااور کہا کہ آپ وزارت داخلہ سے اجازت نامہ لے لیجیے جس پر بلاول بھٹو ان کا شکریہ ادا کرنے کے بعد ملاقا ت کیے بغیر واپس لوٹ گئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *