شامی ائیرفورس کی بھرپور اور بروقت کارروائی اسرائیل کا شام کے شہردمشق میں راکٹ حملہ

شامی میڈیا روپرٹس کے مطابق گزشتہ رات اسرائیل کی طرف سے دمشق کے قریبی گاﺅں میں اسرائیل نے راکٹ حملہ کیا۔جس پر شام کی ایئرفورس پہلے سے تیار بیٹھی تھی اور اس نے بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل کو جواب دیا۔یہ قصبہ دمشق سے اٹھارہ کلومیٹر دور اور ملٹری بیس ہے جسے اسرائیل نے نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے۔
ملٹری ترجمان کے مطابق رات 11بجے اسرائیل نے میزائل حملوں کی صورت میں چڑھائی کرنے کی کوشش کی اور ملٹری بیس کو نشانہ بنایا۔جبکہ شامی ایئرفورس نے ان میزائلوں کو فضا میں ہی نشانہ لگاکر ہٹ کر دیا۔تاہم اسرائیل نے اس حملے سے متعلق ابھی تک تصدیق نہیں کی جبکہ شامی حکومت کے موقف کے مطابق یہ میزائل حملہ اسرائیل کے زیرقبضہ سرزمین سے کیا گیا جہاں پر یہودی قابض ہیں۔جبکہ اس سے قبل نیتن یاہو نے اس گزشتہ سال میں شام پر سینکڑوں حملے کرنے کی ذمہ داری قبول کی ہوئی ہے۔یہ کوئی پہلی بار نہیں ہے بلکہ ایک ہفتہ قبل بھی اسرائیل کے بمبارطیاروں نے رات کے اندھیرے میں شام میں بم گرائے تھے جہاں خوش قسمتی سے زیادہ جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔اسرائیل نے جہاں فلسطین پر ناجائز قبضہ جماتے ہوئے وہاں کے باسیوںپر مظالم ڈھانے کاطریقہ اپنا رکھا ہے،وہاں وہ شام پر بھی بار بار حملہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔حیرانی کی بات یہ ہے کہ اس وقت امریکہ کی پشت پناہی میں کئی اسلامی ممالک نے اسرائیل کے ناجائز وجود کو تسلیم کر کے ان کے ساتھ معاہدے کر لیے ہوئے ہیں جبکہ کئی اور اسرائیل کو تسلیم کرنے کی لائن میں لگے کھڑے ہیں۔جبکہ اسرائیل آج بھی اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے کہ نہ تو وہ فلسطینیوں کو ان کا حق دیتا ہے اور نہ ہی یروشلم کے قبضے سے پیچھے ہٹتا ہے اور نہ ہی غزہ اور شام میں بم اور میزائل گرانے سے باز آتا ہے۔اس چیز کا احساس مسلم امہ میں ناپید ہوتا جا رہا ہے اور وہ معاشی کامیابیوںکو مدنظر رکھتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کرتے ہوئے اسے تسلیم کرنے کی پالیسی پر گامزن ہیں جبکہ اسرائیل فلسطین،شام اور غزہ میں اندوہناک مظالم ڈھانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے جس پر اقوام متحدہ سمیت تمام عالمی قوتیں خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *