سانحہ مچھ ، وزیراعظم اور ندیم افضل چن کے مابین اختلافات کی وجہ سامنے آ گئی ندیم افضل چن سانحہ مچھ کے متاثرین کے پاس وزیراعظم کی تاخیر سے جانے کے ناقد تھے

اسلام آباد وزیراعظم خان کے ترجمان اور معاون خصوصی برائے پارلیمانی رابطہ کاری ندیم افضل چن نے استعفی دے دیا۔ندیم افضل چند کے مستعفی ہونے کی کئی وجوہات سامنے آئی ہیں۔دنیا نیوز کی رپورٹ کے مطابق ندیم افضل چن سانحہ مچھ کے متاثرین کے پاس وزیراعظم کی تاخیر سے جانے کے ناقد تھے،انہوں نے 8 جنوری کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ رابطوں پر اپنے بیان میں بے بسی کا اظہار کیا تھا ’اے بے یارومددگار معصوم مزدوروں کی لاشوں، میں شرمندہ ہوں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کی بعض باتوں پر وزیراعظم کو بھی تحفظات تھے جس کے باعث دونوں میں تناؤ کی کیفیت تھی ۔ندیم افضل چن بحیثیت ترجمان دیگر سیاستدانوں پر بھی تنقید کے حوالے سے کبھی بھی وزیراعظم کی توقعات پر پورا نہیں اترے تھے۔دوسری جانب میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء ندیم افضل چن کا استعفیٰ وزیراعظم عمران خان کو موصول ہو گیا ہے ، جب کہ انہوں نے گاڑی اور دفتر سمیت دیگر سرکاری مراعات بھی واپس کر دی ہیں۔بتایا گیا ہے کہ وزیر اعظم کے معاون خصوصی کے عہدے سے استعفیٰ دینے والے ندیم افضل چن نے کسی صورت بھی استعفی واپس نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے ، اس حوالے سے اپنے قریبی رفقاء سے بات چیت میں انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف میں تورہوں گا لیکن کوی حکومتی عہدہ نہیں لوں گا۔ دوسری طرف وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی کے عہدے سے استعفیٰ دینے والے پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنماء ندیم افضل چن کو منانے کے لیے وفاقی وزراء متحرک ہوگے۔اس حوالے سے میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر براے بحری امور علی زیدی اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی سید زلفی بخاری کی طرف سے کوششیں کی جارہی ہیں کہ ندیم افضل چن کو منا لیا جائے۔ بتایا گیا ہے کہ اس سلسلے میں وفاقی وزیر براے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری اور وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری بھی متحرک ہوچکے ہیں ، وزراء کی طرف سے ندیم افضل چن کو منانے کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم عمران خان کو بھی معاون خصوصی کا استعفیٰ منظور نہ کرنے کی درخواست کی جائے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *