دُنیا کی سب سے قدِیم وِرثے کی مالک قوم رحمانی جسکا کا پرانا نام کُمہارہے جسکا کام مٹی کے برتن بنانا ہے

انسانی تخلیق کے ساتھ ہی اس کا وجود پیدا ہو گیا تھا اس حساب سے ہر قوم سے پرانی قوم رحمانی ہے کیونکہ انسان کو زندہ رہنے کے لیٸے کھاناضروری تھا اور کھانا برتنوں میں ہی پکایا جاتا تھا اس لحاظ سے قوم رحمانی ایک قدیم قوم ہے رحمانی اپنے پیشےکے لحاظ سے ایماندار،نرم دل اورمٹی کے ساتھ مشقت کرنے کی وجہ سے مضبوط جسم کے مالک ہوتے تھے مٹی کے برتن بنا کر ان کو گرد و نواح میں فروخت کرنے کے لیٸے گھوڑوں اور گدھوں پر لاد کر لے جایا کرتے تھے جب اجناس کی پیداوار زیادہ ہونے لگی تواسکو کھیتوں سے گھروں یا منڈیوں میں لے جانے کے لیٸے گھوڑوں، اونٹوں،خچر اور گدھوں کا استعمال ہوا چونکہ مٹی کے برتن فروخت کرنے کے لٸے بھی یہی استعمال ہوتے تھے اجناس کو منڈیوں میں لے جانے کے لیٸے بھی انکا ہی استعمال . گھوڑوں خچروں اور گدھوں پر گندم اور دوسری اجناس لادنے کے لیٸے بڑی طاقت کی ضرورت ہوتی تھی دو بوریوں کو جوڑکر ایک چھٹ بناتے تھے اس چھٹ میں 3 من تک جنس ڈالی جاتی تھی .پرانے وقتوں میں ہر شادی کے موقع پر بارات کو کہا جاتا تھا آپ پہلے چھٹ اٹھاٸیں پھر آپکو کھانا ملے گا بارات والے بھی رحمانی شہ زوروں کو ساتھ لاتے تھے اور بڑا دلچسپ مقابلہ ہوتا اس کے بعد باراتیوں کو کھانا کھلایا جاتا یہ مقابلہ دیکھنے کے لیٸے ہر قوم کے لوگ اکٹھے ہو جاتے اور رحمانیوں کی طاقت کو داد دیتے اس چھٹ میں مٹی ڈالی جاتی جسکا وزن آٹھ سے دس من ہوتا اسکو رحمانیوں کے علاوہ کوٸ بھی نہ اٹھا پاتا ،میلہ منڈی بیساکھی ایمن آباد جو کے مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور حکومت میں لگنا شروع ہوا 13اپریل سے 18 اپریل پہلی وساکھ کو ہر سال لگتا تھا اسکے بعد انگریز دور سے لے کر 2015 تک مسلسل لگتا رہا جہاں پر جانوروں کی خریدوفروخت کے علاوہ کبڈی،کشتی،نیزہ بازی،گھڑ دوڑ بیل دوڑ ،پتھر اور لکڑ اٹھانے کے مقابلے کرواۓجاتے تھے (جسمیں بندہ ناچیز 2002 سے 2015 تک کھیلوں کا انچارج رہا اور ان کھیلوں کے سرکاری مقابلہ جات کرواۓ کمنٹری کی نیزہ بازی،کبڈی اوررسہ کشی کے مقابلوں میں بے شمار انعامات جیتے)
جسمیں پنجاب بھر سے رحمانی 10 اپریل کو گھوڑوں گدھوں اور خچروں کی خریدوفروخت کے لیٸے لاتے سب رحمانی اپںنی خریدوفروخت کے بعد 14 اپریل یعنی 2 وساکھ کو کُھلے میدان میں آجاتے ایک دوسرے کو بڑے پیار سےملتے اور بعض تو وہاں اپنے بچوں کے رشتے کر لیتے اور اگلے سال وہیں پر شادی کی تاریخ بھی مقرر ہو جاتی اس وقت یہ بات عام تھی کہ میلہ بیساکھی تو ہے ای کمہاروں کا 14 اپریل صبع 10.00بجے سے شام گٸے تک یہ مقابلے جاری رہتے جن دیکھنے کے لیٸے دور دراز سے لوگ جوق در جوق آتے اور وہاں کمہار اپنے بذرگوں کی بولیوں گاتے اور ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالتے دیکھنے والے ہرقوم سے ہوتے تھے ان کے کرتب دیکھ کر عش عش کرتے کہ یہ قوم ایک زندہ دل قوم ہے مہاراجہ رنجیت سںنگھ اور بعد میں انگریز دور کے اعلٰی افسران رحمانی شہ زوروں کو انعامات رہےجب میں بیساکھی میلہ کی کھیلوں کا انچارج بنا تو میں نے کٸ سال کوشش کر کے رحمانی شہ زوروں کو انعمات دلواۓ چھٹ کا سپر سٹار باہو کمہار کولو تارڑ ضلع حافظ آباد کا ہوا ہے جس نے 120 سال عمر پاٸ چند سال پہلے اللہ کو پیارے ہو گٸے میں نے انکا ذکر اپنے والدِمحترم سے کٸ دفعہ سُنا ہوا تھا 2012 میں مجھے ملاقات کا شرف میلہ بیساکھی میں چھٹ کے مقابلوں میں جب لوگوں نے بتایا بابا باہو کمہار آیا ہے میں بابا جی کے گلے مِلا ملکر دلی سکون حاصل ہوا چھٹ کے مقابلے پنجاب کے ہر علاقہ میں ہوا کرتے تھے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *