جنرل قاسم سلیمانی کا بدلہ لینے کے لیے امریکہ پر 9/11کے جیسا ایک اور حملہ کیاجائے گاحملے کی آڈیو ریکارڈ ہونے کے بعد سے ایف بی آئی نے تحقیقات شروع کر دیں،امریکہ میں خوف و ہراس

واشنگٹن 9/11کے واقعے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے کیونکہ اس میں سینکڑوں جانوں کا نقصان ہوا تھا تاہم وہ واقعہ بھی کافی حد تک متنازع ہے کیونکہ امریکہ کے ہی ڈیفنس کے تجزیہ کاروں نے اسے پلانٹڈ کا نام دے دیا تھا۔اس وقت ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے۔پچھلے دنوں جنرل قاسم سلیمانی کی برسی تھی جسے ایک سال قبل امریکیوں نے بغداد میں مار ڈالا تھااور اب امریکہ گھبرایا ہوا ہے کہ ایران اس قتل کا بدلہ لینے کے لیے امریکہ پر یا پھر دنیا بھر کے ممالک میں موجود امریکیوں کو نشانہ بنائے گا۔اس وقت تک ایران نے کسی پر بھی حملہ کرنے کی کوشش نہیں کی تاہم یہ ضرور کہا ہے کہ اگر اس پر حملہ کیا گیا تو وہ پیچھے نہیں ہٹے گا جبکہ جنرل سلیمانی کے قاتلوں کو سزا دینے کے لیے اس نے عالمی قوانین کے مطابق انٹرپول سے رجوع کر رکھا ہے۔جبکہ امریکہ اپنی جگہ گھبرایا ہوا ہے۔اور اس کی گھبراہٹ اب اور بھی زیادہ ہو گئی ہے کہ ایک ایسا آڈیو میسج ریکارڈ ہوا ہے جس میں امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن میں حملہ کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔نیویارک میں موجود ایئرٹریفک کنٹرولر نے یہ آڈیو میسج ریکارڈ کیا جس میں کہا گیا تھا کہ”ہم بدھ کے روز واشنگٹن میں جہاز اڑانے جا رہے ہیں، لہٰذا سلیمانی کا بدلہ پورا ہو جائے گا“۔بدھ کا روز بھی گزر گیااور حملہ نہیں ہوا تاہم ایف بی آئی نے تحقیق شروع کر دی ہے کہ اس آڈیو میسج کے پیچھے کیاکہانی ہے۔ یاد رہے کہ یہ دھمکی بھرامیسج اس وقت آیا تھا جب کانگریس الیکٹورل ووٹ گننے کی تیاری کررہی تھی۔
لہٰذا اس سے یہ بھی اخذکیا گیا تھا کہ الیکٹورل ووٹنگ کے دوران ایسا حملہ کرنے کا پلان کیا گیاہے لہٰذا ووٹنگ کے روز سختی سکیورٹی کی گئی تھی تاہم اس پر کوئی فضائی اٹیک یا ایران کی طرف سے کوئی ڈرون حملہ تو نہیں ہوا مگر کیپٹل ہل پر امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں نے ضرور ہلہ بولااور امریکا کا ایسا چہرہ دنیا کو دکھایا جو اس سے قبل کسی کو دیکھنے کا موقعہ نصیب نہیں ہوا تھا۔یاد رہے کہ اس وقت تک بھی یہ اندازے لگائے جا رہے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ چھیڑ دے گا مگر ابھی تک ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ جبکہ ایران بھی کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کے لیے خود کو تیار کیے بیٹھا ہے۔حالانکہ اس دھمکی بھرے آڈیو میسج کے حوالے سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ایران کم از کم ایسا ہرگز نہیں کرے گا کہ وہ حملہ کرنے سے قبل اطلاع کردے بہرحال ایف بی آئی اور دویگر سکیورٹی کے اداروںنے اس آڈیو پیغام کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے اس پر تحقیقات شروع کر دی ہوئی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *