بڑے افسوس سے کہنا پڑرہا ہے کہ ڈیل ہو چکی ہےیوسف رضا گیلانی چیئرمین سینیٹ بن کر رہیں گے،

لاہور نہ ڈیل ملے گی اور نہ ڈھیل ملے گی،ایسا سلوگن تھا جو پی ٹی آئی کی حکومت ببانگ دہل جپا کرتی تھی مگر چشم فلک نے دیکھا کہ ڈیل بھی ہو گئی اور ڈھیل بھی مل گئی یہاں تک کہ حکومتی پارٹی کو الیکشن میں لگائے گئے سبھی نعروں سے ہٹنا پڑااور اپنے منشور میں درج ہر ایک وعدے سے بھی مکرنا پڑااور تبدیلی ا ور انقلاب کے دعوؤں پر بھی یوٹرن لینا پڑا۔بات سیدھی سی ہے کہ اگر اقتدار لینے کی خاطر آپ مانگے تانگے کے ووٹ اور لے دے کر کمپرومائز کر لیں تو پھر آپ کو جیب میں ایسے کھوٹے سکے بھی ڈالنا پڑ جاتے ہیں جو وقت آنے پر کھرے سکوں کو بھی مفلوج کر کے آپ کے ارادوں پر پانی پھیر دیتے ہیں۔نہ تو غریب کا فائدہ ہوااور نہ ملکی قرضوں میں کمی آئی نہ مہنگائی کا طوفان کنٹرول ہوااور نہ ہی کروڑوں نوکریوں کے ساتھ لاکھوں گھروں کا خواب پورا ہوا۔اگر کچھ ہوا تو وہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیل ہوئی۔ڈیل بھی ایک نہیں کئی ہوئی ہیں،نواز شریف کا ملک سے باہر جانا،مریم نواز کا جیل سے باہر آنا اور پیپلز پارٹی کو فری ہینڈ ملنا سبھی کسی نا کسی ڈیل ہی کا نتیجہ ہے مگر اس بات جو بڑی ڈیل ہو چکی ہے وہ سینیٹ الیکشن کے حوالے سے ہے جس میں یوسف رضا گیلانی کو چیئرمین سینیٹ بنانے کے لیے قومی سطح پر قلابے ملائے جا رہے ہیں۔
گزشتہ روز یوسف رضا گیلانی کا اسٹیبشلمنٹ کے نیوٹرل ہونے سے متعلق بیان بھی کسی خاص پیغام کا عندیہ لگتا تھا۔تاہم یوسف رضا گیلانی کے سینیٹ الیکشن کے موضوع پر بات کرتے ہوئے سینئر تجزیہ کار ظفر ہلالی نے اپنے پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا کہ بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ڈیل ہو گئی ہے ا ور یوسف رضا گیلانی نہ صرف سینیٹر بن جائیں گے بلکہ چیئرمین سینیٹ بھی منتخب ہو جائیں گے۔ظفر ہلالی نے کہا کہ جب آپ احتساب نہیں کرپاتے اور ڈیل اور ڈھیل کے چکر میں پڑ جاتے ہیں تو پھر عوام کی نظر میں بھی گر جاتے ہیں اور پھر ایسے ہی آپ کی حکومتیں بھی کمزور ہو جاتی ہیں،ایسے لوگ جب اسمبلیوں میں آئیں گے جو پیسوں کی سیاست کرتے ہیں تو ا س ملک کا مستقبل کیا ہو گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *