ایران اور امریکہ آمنے سامنے آ گئے،24گھنٹوں میں کچھ بھی ہو سکتا ہےدنیا کو نیوکلیئر جنگ میں دھکیلنے کا ٹرمپ کا منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچ پائے گا یا نہیں

واشنگٹن اس وقت دنیا میں تہلکہ مچا ہوا ہے کہ امریکہ کا ایک جنگی بیڑہ مڈل ایسٹ کی خلاﺅں میں محو پرواز ہے،دوسری طرف اسرائیل کے فائٹر جیٹ بھی اڑان بھرنے کو تیار کھڑے ہیں جبکہ دونوں محاذ پر دلیرانہ چال چلنے کے لیے ایران کے ڈرون اور میزائل بھی ریڈ الرٹ پر ہیں۔ایران کو ہوشمندی میں اس لیے کہا جا سکتا ہے کہا س نے ابھی تک حملہ کرنے میں پہل نہیں کی اور مطمئن دکھائی دیتا ہے جبکہ امریکہ کا بمبار طیارہ پہلی بار مڈل ایسٹ میں پرواز نہیں کر رہا بلکہ اس سے قبل بھی دو بار امریکن بمبار طیارے اس خطے میں اڑان بھر چکے ہیں تب بھی ایران نے اپنے میزائل تان لیے تھے مگر پھر کسی حکمت عملی کے تحت حملہ کرنے سے باز رہے تھے۔اس وقت سسپنس کی بات یہ ہے کہ آئندہ چوبیس گھنٹوںمیں امریکی حکومت کی باگ ٹرمپ کے ہاتھوں سے نکل کر جوبائیڈن کے ہاتھوں میں جانے والی ہے۔تقریب حلف برداری میں ہنگامے پھوٹنے کا شدید خدشہ ہے کہ کہیں پارلیمان پر حملہ نہ ہو جائے۔ممکنہ خانہ جنگی سے بچنے کی خاطر واشنگٹن سمیت پورے امریکہ کو آرمی اور نیشنل گارڈز نے ایسے گھیرے میں لے رکھا ہے کہ جیسے مارشل لا نافذ کردیا گیا ہو۔
یہ ٹرمپ کی بچھائی بیساکھ کا ایسا گورکھ دھندہ ہے کہ اس نے کیپٹل میں ہنگامے برپا کر کے سارے امریکہ کی آرمنی اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو ادھر ان گیج کر لیا ہوا ہے ا ور دوسری طرف ایران پرحملہ کرنے کی تیاری پکڑ لی ہوئی ہے۔دنیا بھر کے ممالک اور بذات خود امریکہ کی اسٹینلشمنٹ بھی ایران پر حملے کے حق میں نہیں ہے مگر ٹرمپپ کی یہ کوشش ہے کہ جاتے جاتے وہ اس نئی جنگ کی چنگاری لگا جائے کہ جس کے بعد دنیا میں تیسری جنگ عظیم کا طبل بج جائے ا ور اس نیوکلیئر جنگ میں محض امریکہ اور ایران ہی نہیں کودیں گے بلکہ اور بھی کئی ممالک اس جنگ کا ایندھن بنتے ہوئے اس میں کود پڑیں گے۔
اب ایران اور امریکہ تو آمنے سامنے ہیںا ور آئندہ چوبیس گھنٹوں میں امریکہ کی حکومت تبدیل ہونے ساتھ ایران میں کیا ہو گا اس کے لیے چند گھڑیاں بہت اہم ہیں،لہٰذا انتظار کیجیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *