اگر عبوری حکومت آئی تو تین سال کے لیے آئے گی جس میں صدارتی نظام نافذ کرنے کا منصوبہ بنایا جائے گا

لاہور سینیٹ الیکشن ہو چکے اس میں واضح برتری تو موجوہ حکومت پی ٹی آئی کے حصے میں آئی ہے مگر جس سیٹ پر سب سے زیادہ شور شرابا تھا وہ پی ڈی ایم لینے میں کامیاب ہو چکی ہوئی ہے۔یوسف رضا گیلانی اور حکومتی امیدوار حفیظ شیخ کے درمیان مقابلے کو دراصل اپوزیشن اور حکومت کے درمیان اصل مقابلہ تصور کیا جا رہا تھااور خیال یہی کیا جا رہا تھا کہ اگر یوسف رضا گیلانی جیت گئے تو وہ چیئرمین سینیٹ بن جائیں گے جس کے بعد اپوزیشن کے لیے عدم اعتماد کی تحریک لانا آسان ہو جائے گا مگر سینیٹ الیکشن کی شام ہی عمران خان نے وزیراعظم ہونے کے ناتے عدم اعتماد کا ووٹ لینے کا بذات خود اعلان کر دیا۔اب اس معاملے کا کیا نتیجہ نکلتا ہے اس کا فیصلہ تو وقت آنے پر ہو گا مگر یہ ثابت ہو گیا کہ معاملات کچھ بہتر نہیں ہیں بلکہ بگڑتے چلے جا رہے ہیں،اسی موضوع پر بات کرتے ہوئے ملک کے مایہ ناز قانون دان احمد رضا قصوری نے کہا کہ متعلقہ اداروں کو اپنا کردار ادا کرنے کا وقت آن پہنچا ہے کیونکہ ا س وقت ملک میں حکومت اور اپوزیشن اپنے ذاتی معاملات میں الجھی نظرا ٓتی ہے اور نیشنل انٹرسٹ کے حوالے سے کوئی لائحہ عمل دیکھنے کو نہیں مل رہا۔اگر اس دوران عبوری حکومت آتی ہے تو وہ کم سے کم تین سال کے لیے آئے گی اور اس دوران صدارتی نظام کو لانے ا ور اسے دس سال تک لاگو رکھنے کے حوالے سے کام کیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ جس بنیاد پر بنگلہ دیش الگ ہوا آج وہی حالات سندھ،بلوچستان اور پنجاب میں دیکھنے کو مل رہے ہیں۔کیونکہ یہاں بھی لسان اور کلچر کی بنیاد پر صوبوں کے نام رکھے گئے ہیں جنہیں ایمرجنسی بنیادوں پر ختم کرنے کی ضرورت ہے اور اس حوالے سے متعلق اداروں کو چاہیے کہ ایکٹو ہو کر کام کریں کہ کہیں ہم ہاتھ نہ ملتے رہ جائیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *