اُسامہ قتل کیس، ہم پر گاڑی کے اندر سے فائرنگ نہیں کی گئی ۔ پولیس اہلکاروں کا عدالت کے سامنے اعتراف اصل تصویر نہیں بنائی اس کا مطلب کہ تم ملزمان سے ملے ہوئے ہو؟ عدالت کا تفتیشی افسر پر اظہار برہم

اسلام آباد اُسامہ ستی قتل کیس کی سماعت اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی عدالت میں ہوئی جہاں گرفتار پولیس اہلکاروں کو عدالت کے سامنے پیش کیا گیا۔ وکیل مدعی راجہ فیصل یونس عدالت میں پیش ہوئے۔ جج نے پولیس سے استفسار کیا کہ کون کون سے ملزمان ہیں؟ پولیس نے بتایا کہ پانچ ملزمان ہیں، سب پیش ہو گئے ہیں۔دورانِ سماعت تفتیشی افسر نے عدالت سے ملزمان کے مزید 12 روز کےجسمانی ریمانڈ کی استدعا کی اس پر جج نے استفسار کیا کہ کیا واردات میں استعمال ہونے والا اسلحہ برآمد ہو گیا؟ اس پر تفتیشی افسر نے جواب دیاکہ ملزمان سے اسلحہ قبضے میں لے لیا گیا ہے، اسامہ قتل کیس میں استعمال اسلحہ اور خول برآمد کرلیے ہیں، کیس کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی بھی بنائی گئی ہے۔اور جوڈیشل انکوائری بھی کر رہی ہے۔ وکیل نے کہا کہ گاڑی کو پیچھے سے گولیاں ماری گئی ہیں۔ عدالت نے پوچھا کہ کیا گاڑی کی سیٹ میں گولیوں کے نشان ہیں؟ تفتیشی افسر نے کہا کہ میں یہ دیکھ نہیں سکا۔ وکیل مدعی نے کہا کہ یہ ریکارڈ اور شواہد کو ٹیمپرڈ کر رہے ہیں، یہ سارا ریکارڈ خراب کر رہے ہیں۔ جج نے پولیس پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا گاڑی کی تصویر لی گئی ہیں۔
کہاں ہیں وہ تصاویر جس میں سیٹ پر گولی لگی؟ اس موقع پر تفتیشی افسر نے اسامہ کی میڈیکل رپورٹ عدالت میں پیش کی جس پر اسامہ کے قتل کے وقوعہ کی تصویر نہ لینے پر عدالت نے تفتیشی افسر پر برہمی کا اظہار کیا۔ عدالت نے تفتیشی افسر سے مکالمہ کیا کہ اصل تصویر نہیں بنائی اس کا مطلب کہ تم ملزمان سے ملے ہوئے ہو؟ اے ٹی سی کے جج نے کہا کہ لگتا ہے تم لوگ ملے ہوئے ہو۔
عدالت نے ملزمان کو روسٹرم پر طلب کیا اور پوچھا کہ بتائیں کہ یہ واقعہ کیسے پیش آیا؟ اس پر ایک ملزم نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ اےایس آئی سلیم شمس کالونی نے کال چلائی کہ ڈکیتی ہوئی ہے، کہا گیا سری نگر ہائی وے پر آجائیں، سفید کلر کی ایک گاڑی ہے،کہا گیا گاڑی میں 4 لوگ سوار ہیں، ہر صورت گاڑی کو روکنا ہے۔ عدالت نے ملزم سے سوال کیا کہ کیا آپ پر گاڑی سے فائرنگ کی گئی، اس پر ملزمان نے اعتراف کرتے ہوئے جواب دیا کہ ہم پر فائرنگ نہیں کی گئی۔
عدالت نے کہا کہ اسامہ کے پاس چھوٹی گاڑی تھی، تمہیں نہیں معلوم گاڑی کیسےروکنی ہے؟ کیا گاڑی پر گولیاں برسا دو گے؟ بعد ازاں اے ٹی سی اسلام آباد نے اسامہ قتل کیس کے ملزمان کا 7 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا ۔ یاد رہے کہ اسلام آباد کے سیکٹرجی10 میں اے ٹی ایس اہلکاروں کی فائرنگ سے اسامہ نامی طالبعلم ہلاک ہوگیا تھا جس کی ایف آئی آر تھانہ رمنا میں درج ہے۔ مقتول کے والد کی مدعیت میں ہلاک کا مقدمہ 7 اے ٹی اے کے تحت درج کر لیا۔ ایف آئی آر میں 302 کی دفعات میں لگائی گئی ہیں۔ واقعے میں ملوث 5 پولیس اہلکاروں کو گرفتار کرلیا گیا۔ اہلکاروں نے 22 گولیاں فائر کی تھیں اور گاڑی کی فرنٹ اسکرین پر بھی گولیوں کے نشانات تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *