انٹرنیشنل بارڈرز پر فوج کی بھاری نفری تعینات کرنا شروع کر دی،ہمیں جنگ کے لیے تیار رہنا ہو گا،سربراہ انڈین آرمی

نیو دہلی اکھنڈ بھارت کے خواب نے انڈیا کو وہ جھٹکا دینا ہے کہ اسے اپنا رہا سہا وجود بھی برقرار رکھنا مشکل ہو جانا ہے۔تحریک خالصتان اور تامل ناڈو کے لوگوں کی مزاحمت سمیت اس وقت بھارت میں درجن بھر کے قریب تحریکیں زوروں پر ہیںا ور دوسری طرف اس نے چین کے ساتھ بھی پنگا لے لیا ہوا ہے جبکہ پاکستان کے ساتھ اس کے تعلقات پہلے دن سے ہی خراب ہیں۔اب دو دو سرحدوں پر محاذ کھولنے سے پریشانی تو لاحق ہونی ہی ہے جس پر وہ سٹپٹایا ہوا ہے۔ انڈیا کی بری فوج کے سربراہ جنرل منوج مکند نرونے نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین ایک ساتھ دو محاذوں پر ایک سنگین خطرہ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ دونوں محاذوں پر ٹکرائو کا سوال ایک ایسا خطرہ ہے، جس کے بارے میں ہمیشہ تیار رہنا چاہیے۔
بری فوج کے سربراہ نے فوج کی سالانہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’چین اور پاکستان کے درمیان فوجی اور غیر عسکری تعاون اور اشتراک میں کافی اضافہ ہوا ہے۔دو محاذوں پر ٹکرائو کا سوال ایک ایسا خطرہ ہے، جس کے بارے میں ہمیں تیار رہنا چاہیے۔اس خطرے سے نمٹنے میں ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ کہ کس محاذ پر زیادہ بڑا خطرہ ہے۔ پہلے بڑے خطرے سے نمٹنا ہو گا۔‘انڈین جنرل نے یہ بیان ایک ایسے وقت میں دیا ہے جب انڈیا اور چین کے درمیان لداخ میں کشیدگی بدستور جاری ہے۔ تازہ سیٹلائٹ تصویروں سے پتہ چلتا ہے کہ کشیدگی کے اس ماحول میں چین اب سکم اور ارونا چل پردیش کی شمال مشرقی سرحدوں کے نزدیک بھی بڑے پیمانے پر فوجی تعمیرات میں مصروف ہے۔ایک سوال کے جواب میں جنرل نرونے نے کہا کہ ’چین نے سنٹرل اور ایسٹرن کمانڈ کے علاقوں میں بھی ٹکرائو کے پوائنس پر نئی سڑکیں بنائی ہیں، ہوائی پٹیاں تعمیر کی ہیں اور بیرکیں بنائی ہیں۔‘یاد رہے کہ انڈیا اور چین کے درمیان گذشتہ جون میں لداخ خطے میں وادی گلوان میں خونریز ٹکرائو کے بعد زبردست کشیدگی پائی جاتی ہے۔دونوں جانب ہزاروں فوجی پوری جنگی تیاریوں کے ساتھ لداخ کے پہاڑی خطے میں ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں۔بعض مقام پر دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان محض چند سو میٹر کافاصلہ ہے۔ گذشتہ ہفتے چین کے ایک فوجی کو انڈین فوجیوں نے اپنے علاقے میں پکڑ لیا تھا۔ اسے پیر کے روز ضروری کاغذی کارروائی کے بعد چینی فوج کے حوالے کر دیا گیا تھا۔انڈیا کے سرکردہ عسکری تجزیہ کار اجے شکلا نے حال ہی میں ایک مضمون میں لکھا ہے کہ انڈیا کی بیشتر افواج ابھی تک پاکستان کے محاذ پر تعینات ہوا کرتی تھیں لیکن اب اس سوچ میں کچھ تبدیلی آ رہی ہے۔شکلا کے مطابق پاکستان کے محاذ سے دو ڈویژن یعنی 36 ہزار فوجی اب چین کے محاذ پر تعینات کیے جا رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *