امریکا نے بحری جنگی بیڑے چینی سمندری حدود میں اتار دیےتائیوان چین کا حصہ ہے،امریکا ہمارے اندرونی معاملات سے دور رہے، چین

بیجنگ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ امریکا چین سے ٹکر لینے کے لیے اپنے پر تول چکا ہے،اسے عالمی معاشی پابندیاں عائد کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہو الہٰذا وہ اب تائیوان ایشو کو اپنی ڈھال بنا کر چین کو اپنے شکنجے میں لینا چاہ رہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس نے متنازع سمندری حدود میں اپنے بحری بیڑے جدید اسلحہ سے لیس اتار دیے ہیں۔
اسی حوالے سے امریکی فوج نے جو بائیڈن کے صدر بننے کے بعد بیان میں کہا تھا کہ یو ایس ایس تھیوڈور روزویلٹ کی سربراہی میں بحری آزادی کو برقرار رکھنے کے لیے تین جنگی جہازوں سے لیس ہو کر بحیرہ جنوبی چین میں داخل ہوگئے ہیں۔چین اس حوالے سے شکایات کرتا آیا ہے کہ امریکی نیوی کے جہاز بحیرہ جنوبی چین میں داخل ہوئے ہیں جہاں ویتنام، ملائیشیا، فلپائن، برونائی اور تائیوان کے دعوے ہیں۔
امریکا کے جہاز جب چینی سمندری حدود میں داخل ہو رہے تھے تو اسی دوران تائیوان نے دعویٰ کیا تھا کہ چینی ایئرفورس نے جنوب مغربی علاقے میں حملہ کیا جس پر امریکا نے تشویش ظاہر کی تھی۔دوسری جانب چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس پر جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ اس کا بہتر جواب وزارت دفاع دے سکتی ہے۔لی جیان ژاؤ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ تائیوان چین کا حصہ ہے اور امریکا ہمارے مؤقف میں مداخلت سے گریز کرے۔واضح رہے کہ امریکا سمیت دیگر ممالک کے تائیوان کے ساتھ باقاعدہ سفارتی تعلقات نہیں ہیں لیکن تائیوان کو دنیا کے بڑے ممالک کا تعاون حاصل ہے اور بیانات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔چین نے 23 جنوری کو قانون منظور کرکے کوسٹ گارڈ کو پہلی بار واضح طور پر غیر ملکی کشتیوں کو نشانہ بنانے کی اجازت دے دی تھی۔بل میں ان حالات کی بھی وضاحت کی گئی ہے جن میں مختلف اقسام کے ہتھیار استعمال کیے جاسکتے ہیں۔قانون کے تحت کوسٹ گارڈ کے اہلکاروں کو اجازت ہوگی کہ وہ ان چٹانوں پر دیگر ممالک کے ڈھانچوں کو مسمار کر سکتے ہیں جن کی ملکیت کا چین دعویٰ کرتا ہے، جبکہ وہ ان پانیوں میں غیر ملکی کشتیوں کی جانچ پڑتال کر سکتے ہیں جن پر چین کا دعویٰ ہے۔قانون کے ذریعے کوسٹ گارڈز کو ضرورت کے تحت عارضی اخراجی زونز قائم کرنے کا بھی اختیار ہوگا، تاکہ دیگر کشتیوں اور اہلکاروں کو داخلے سے روکا جاسکے۔اس وقت تک امریکا نے چین کو براہ راست للکارنے سے گریز کر رکھا ہے کیونکہ امریکا کے کے لیے محض چین ہی نہیں روس بھی بہت بڑا خطرہ ہے کیونکہ سوویت یونین کو توڑنے کا بدلہ روس نے ابھی لینا ہے اور یہ بات نہ تو روس بھولا ہے اور نہ ہی امریکہ بھولنا چاہتا ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس وقت روس اور چین ہاتھ ملا چکے ہوئے ہیں۔تاہم دیکھنا یہ ہے کہ دونوں محاذوں پر امریکا کیسے لڑ پائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *