اسرائیلی فوجی سیلف ڈیفنس کے نام پر معصوم فلسطینیوں کو موت کے گھاٹ اتارنے لگےدرجنوں معصوموں کو مات کے گھاٹ اتارنے والے ظالموں کو رہائی کا پروانہ مل گیا،

اسرائیلی فوجی سیلف ڈیفنس کے نام پر معصوم فلسطینیوں کو موت کے گھاٹ اتارنے . یہ پچھلے ہفتے کی بات ہے جب اسرائیل کے مغربی کنارے پر ایک فلسطینی شخص کو روک کر اسرائیلی فوجیوں کے جتھے نے گولی مار دی۔گولی اس شخص کی گردن میں لگی جس سے اس کی موقعہ پر ہی موت واقع ہو گئی تھی۔اس واقعہ پرفلسطینی تلملا اٹھے ا ور مغربی پٹی میں خوب احتجاج کیا گیا۔چونکہ عینی شاہدین کے سامنے اس شخص کو ناجائز گولی ماری گئی تھی لہٰذا اعلیٰ حکام نے انکوائری کمیٹی بنا دی تھی۔اب اس کمیٹی کی رپورٹ آنے پر قتل کرنے والے افسران کو بے گناہ قرار دیا گیا کیونکہ رپورٹ میں یہ موقف اختار کیا گیاتھا کہ ان فوجیون نے سیلف ڈیفنس میں گولی ماری تھی۔رپورٹ میں یہ بات بھی واضح کی گئی ہے کہ اسرائیل کی مغربی پٹی جہاں یہ واقعہ پیش آیا وہاں پر فلسطینیوں نے ایک غیر قانونی عمارت تعمیر کی تھی اور اس عمارت کی تعمیر رکوانے کے لیے فوجی وہاں گئے جس کے ردعمل میں لوگوںنے آرمڈ فورسز پر حملہ کیااور سیلف ڈیفنس میں انہوں نے گولی چلائی جس کے نتیجے میں اس ایک شخص کی موت واقع ہو گئی۔لہٰذا قتل کرنے والے افسروں کو باعزت بری کر دیا گیا اور رپورٹ میں بے گناہ قرار دے دیا گیا۔کس قدر افسوس کی بات ہے کہ سیلف ڈیفنس کے نام پر اسرائیل نے پورے فلسطین کو یرغمال بنا کر وہاں کے معصوم لوگوں پر بھیانک قسم کے ظلم روا کر رکھے ہیں۔جبکہ عالمی اقوام بھی ان مظالم پر خاموش تماشائی بنی نظر آتی ہیں۔اسرائیلی انتظامیہ کی طرف سے اس رپورٹ پر فلسطینیوں اور ہیومن رائٹس کی تنظیموں نے بھی احتجاج کیاہے کہ یہ رپورٹ درست نہیں ہے مگر جس ملک کاوجود ہی درست نہیں ہے اور ناجائز ہے تو اس کی رپورٹس کیسے درست ہو سکتی ہیں۔اسرائیل نے یروشلم کی طرف اپنے ناپاک قدم بڑھاتے ہوئے اب وہاں بھی غیر قانونی عمارتیں تعمیر کرنا شروع کر دی ہیں اور اس علاقے میں جتنے بھی فلسطینیوں کے گھر تھے وہ مسمار کرتے چلے جا رہے ہیں۔تاہم دیکھنا یہ ہے کہ فلسطینیوں پر چھائی ظلم کی یہ رات کب ختم ہوتی ہے اور کب انہیں اپنی ارض مقدس پر سکون سے رہنے کاموقعہ ملے گا۔اس وقت نہ تو کوئی عالمی تنظیم اور نہ ہی کوئی طاقتور ملک اسرائیل کو فلسطینیوں پر ڈھانے والے مظالم سے روکنے کے لیے آگے بڑھ ر ہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *