اسامہ ستی قتل کیس، ملزمان کے بیان پر عدالت بھی حیران اسامہ ستی نے تین بار سگنل توڑا، گاڑی کے شیشے بھی کالے تھے۔ ملزمان کا بیان

اسلام آبا د اسامہ ستی قتل کیس میں ملزمان کے بیان نے عدالت کو بھی حیران کر دیا۔۔تفصیلات کے مطابق انسداد دہشتگردی کی عدالت میں 22 سالہ نوجوان اسامہ ستی کے کیس کی سماعت ہوئی۔سماعت کے دوران ملزمان کو عدالت کے ربرو پیش کیا گیا۔سماعت کے دوران عدالت نے ملزمان سے سوال کیے۔اے ٹی سی نے سوال کیا کہ ملزمان کون کون سے ہیں جس پر پولیس نے جواب دیا کہ پانچ ملزمان ہیں،سب پیش کیے ہوئے ہیں۔
ملزمان نے کہا ہے کہ اسامہ ستی نے تین بار سگنل توڑا، گاڑی کے شیشے بھی کالے تھے۔عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا اسامہ کوئی دہشتگرد تھا؟ اس سے پہلے کتنے دہشتگردوں کا مارا۔جج نے استفسار کیا کہ کیا ملزمان سے اسلحہ برآمد ہو گیا؟پولیس نے بتایا کہ ملزمان سے اسلحہ اور خول برآمد کیے ہوئے ہیں۔
اے ٹی سی جج پولیس پر برہم ہو گئے اور استفسار کیا کہ گاڑی کی تصاویر لی گئی ہیں؟کہاں ہیں وہ تصاویر جس میں سیٹ پر گولیاں لگی ہیں۔کیا بچے کو پیچھے سے گولیاں لگی ہیں؟پولیس نے جواب دیا کہ بچے کو پیچھے سے گولیاں لگیں۔ جج نے استفسار کیا کہ بچے کو کتنی گولیاں لگیں؟پولیس نے جواب دیا کہ بچے کو پانچ گولیاں لگیں۔ عدالت نے کہا کہ مجھے تصاویر دکھائیں، بغیر سیٹ سے نکلے گولی نہیں لگ سکتی۔جس سیٹ سے نکل کر پانچ گولیاں لگیں وہ تصویر دکھائیں۔پولیس نے جواب دیا کہ وہ تصویر نہیں ہے۔عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا مطلب تصاویر لی ہی نہیں گئیں؟لگتا ہے تم لوگ ملے ہوئے ہو وہ تصویر ہی نہیں جس میں گولی لگی ہوئی ہے۔ عدالت نے ملزم پولیس اہلکاروں کا 7 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔عدالت نے وائرس لیس سیٹ کرنے والے اہلکار کو بھی شامل تفتیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *