آپ کی کمائی غیر شرعی ہے اس لیے آپ کا اکاؤنٹ ہمارے بینک میں نہیں کھل سکتاحیرانی کی بات ہے کہ ناچنے والے کا اکاؤنٹ نہیں کھل سکتا اور نچانے والے کا کھل سکتا ہے

مانسہرہ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو خوب ٹرول ہو رہی ہے جس میں ایک خواجہ سرا نے اپنی دکھی داستان کافی جذباتی انداز میں بیان کی ہے،خواجہ سرا کا کہنا ہے کہ میں نے مانسہرہ کے لاری اڈہ کے ایک نجی بینک میں اکاؤنٹ کھلوانے کے لیے درخواست دی۔میرا فارم پر کر لیا گیااور مجھے کہا گیا کہ آپ کا اکاؤنٹ کھل گیا ہے ا ور آپ ایک مہینے بعد آ کر اپنی چیک بک اور اے ٹی آیم کارڈ لے جائیے گا۔
مگر کچھ دن بعد ہی مجھے کال موصول ہوئی کہ آپ کا اکاؤنٹ ہمارے بینک میں نہیں کھل سکتا کیونکہ ہمارے شرعی اصولوں کے مطابق آپ کی کمائی غیر شرعی ہے۔لہٰذا ہم معذرت کرتے ہیں۔اس پر خواجہ سرا کا کہنا تھا کہ یہ کہاں کہ اصول ہے کہ ناچنے والوں کی کمائی حرام ہے اور نچانے والوں کی حلال ہے۔ناچنے والوں کے اکاؤنٹ نہیں کھولے جا سکتے کہ وہ غیر شرعی کام کرتے ہیں جبکہ نچوانے والوں کے ہر بینک میں اکاؤنٹ کھلے ہیں خواجہ سرا نے یہ بھی کہا کہ جتنے لوگوں کے بینک میں اکاؤنٹس ہیں کیا وہ سارے حلال کمائی کے کھلے ہوئے ہیں یا پھر بینک کی اپنی آمدنی شرعی طور پر حلال ہے۔
خواجہ سرا نے کہا ہمارے ساتھ اس طرح کا رویہ رکھنا قابل افسوس ہے۔ہم کیا کریں کوئی بھی ہمیں اپنانے کے لیے راضی نہیں۔نہ ہمارے پاس گھر والوں کی سپورٹ ہے اور نہ ہی ہم کوئی اور اچھا کام کر سکتے ہیں۔نہ تو ہم غنڈے ہیں اور نہ ہی چوری ڈکیتی کرتے ہیں،آ جا کر ہم ناچ کر یا پھر لوگوں کے دروازوں پر جا کر بھیک مانگ کر پیسے کماتے ہیں اور اس کے علاوہ ہم کر ہی کیا سکتے ہیں۔ان کو تو چاہیے کہ ہماری مدد کریں۔ہمیں گھر بنانے کے لیے اور بزنس کرنے کے لیے قرضے فراہم کریں تاکہ ہم بھی عزت کی زندگی جی سکیں مگر یہ تو ہماری اس کمائی کو بھی غیر شرعی قرار دے رہے ہیں جس کے علاوہ ہمارے پاس اور کوئی آپشن ہی نہیں ہے۔ہم ناچتے ہیں اور ناچ کر ہی اپنی پیٹ پوجا کے لیے کچھ پیسے کما پاتے ہیں اور اگر یہ بھی غیر شرعی ہے تو بتائیں ہم کیا کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *