Vitamix E310 Explorian Blender, Professional-Grade, 48 oz. Container, Red

Vitamix E310 Explorian Blender, Professional-Grade, 48 oz. Container, RedSince launching the Vitamix E310 blender in 2014, Vitamix has increased the number of units sold by more than 500% as of early 2017. One of the reasons behind the growth is the inclusion of the Explorian Professional-Grade Blender within the Explorian line, specifically for professionals. While the price difference between Explorian and the standard Explorian is more than $800, for consumers, this Vitamix is a professional blender that has more robust features, including the following:


The stainless steel frame allows you to heat up, blend, clean, and even pour into the container while it’s still in the box.


Access to a 2-cubic-foot thermal container for storing foods and beverages at high temperatures.


Total system weight of 48 oz. without the containers is only 2.5 lbs.


The Vitamix Explorian is the equivalent to the top blender on the market.


When compared to the Explorian, the Red Edition is built from a combination of high-grade stainless steel and features a built-in 400-watt processor, giving you the most powerful, professional-grade blender. The red color gives the Vitamix Explorian the exclusive power to seriously cook and make dishes in professional-grade

  • Variable Speed Control: Ten variable speeds allow you to refine every texture with culinary precision, from the smoothest purées to the heartiest soups
  • Pulse Feature: Layer coarse chops over smooth purées for heartier recipes, such as chunky salsas or thick vegetable soups.
  • The 48-ounce container is ideal for blending medium batches for small family meals.
  • Hardened Stainless-Steel Blades: Our aircraft-grade stainless steel blades are designed to handle the toughest ingredients, so from the first blend to the last, you get the same quality results.
  • Self-Cleaning: With a drop of dish soap and warm water, your Vitamix machine can clean itself in 30 to 60 seconds.
  • 5-Year Full Warranty: We stand behind the quality of our machines with full warranties, covering all parts, performance, labor, and two-way shipping at no cost to you.
  • What’s in the Box: motor base, 48 oz. container, mini-tamper, cookbook

وزیراعظم عمران خان قومی اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئےوزیراعظم عمران خان نے قومی اسمبلی میں 178 اراکین اسمبلی کا اعتماد کا ووٹ حاصل کر لیا

وزیراعظم عمران خان قومی اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ..

اسلام آباد وزیراعظم عمران خان ایک بار پھر قومی اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ۔تفصیلات کے مطابق آج وزیراعظم عمران خان کے لیے اعتماد کے ووٹ کے لیے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا خصوصی اجلاس سجا۔قومی اسمبلی کے اجلاس کا آغاز تلاوت قران پاک سے کیا گیا۔بعدازاں نعت رسول مقبول پیش کی گئی اور قومی ترانہ بجایا گیا جس پر تمام اراکین اسمبلی اور قومی اسمبلی میں موجود افراد احترام میں کھڑے ہوئے۔ وزیراعظم عمران خان وقت پر قومی اسمبلی پہنچے۔اراکین اسمبلی نے ان کا بھرپور استقبال کیا۔مہمان گیلری میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے علاوہ تینوں وزراء اعلیٰ موجود تھے۔گورنر سندھ اور گورنر پنجاب بھی گیلری میں موجود تھے۔پی ٹی آئی اور اتحادیوں کے 179 اراکین قومی اسمبلی کے اجلاس میں شریک ہوئے۔پی ڈی ایم کے رہنما محسن داوڑ بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔مراد سعید اور فواد چوہدری نے محسن داوڑ کا خیر مقدم کیا۔جب کہ جے آئی کے رہنما عبدالاکبر چترالی بھی اجلاس میں شریک ہوئے،اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم ) نے آج ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس کے بائیکاٹ کا اعلان کررکھا ہے،پی ڈی ایم کا کوئی رکن ایوان میں موجود نہیں تھا۔مستعفی رکن اسمبلی فیصل واوڈا اور معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان بھی مہمان گیلری میں موجود تھے۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے ووٹنگ کا طریقہ کار بتایا اور اسمبلی کے گیٹ بند کرنے کی ہدایت جاری کی۔ قومی اسمبلی میں آج ہونے والے اجلاس میں وزیراعظم پر اعتماد کے ووٹ کی قرارداد پیش کی گئی۔قومی اسمبلی کے ہفتہ کو ہونے والے اجلاس کا ایجنڈا جاری کیا گیا۔
ایجنڈے کے مطابق قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعظم پر اعتماد کے ووٹ کی قرارداد پیش کی گئی۔قرارداد وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پیش کی۔قرار داد کے متن میں کہا گیا کہ ایوان وزیراعظم پر اعتما دکا اظہار کرتا ہے، ایوان آرٹیکل 7/91 کے تحت وزیراعظم پراعتماد کا اظہارکرتا ہے۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے قرار داد پیش کرنے کے بعد اعتماد کے ووٹ پر کارروائی شروع کی گئی۔
اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے وزیراعظم کی حمایت کرنے والے ارکان کو دائیں جانب لابی جانے کی ہدایت کی۔ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد اسد قیصر نے نتائج کا اعلان کیا جس کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے قومی اسمبلی میں 178 اراکین اسمبلی کا اعتماد کا ووٹ حاصل کر لیا،عمران خان جس وقت وزیراعظم بنے تب انہوں نے 176 ووٹ حاصل کیے تھے۔ واضح رہے کہ وزیرعظم عمران خان نے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کا فیصلہ اُس وقت کیا جب حفیظ شیخ سینیٹ الیکشن میں یوسف رضا گیلانی سے ہار گئے۔سادہ اکثریت کے لیے عمران خان کو 172 ووٹوں کی ضرورت تھی جبکہ اپوزیشن کے پاس نشستوں کی تعداد 160 ہے۔

عمران خان صاحب نے کہا تھا کہ میرے علاوہ کوئی اور آپشن نہیں ہے کیا ان کرپٹ لوگوں کو وزیراعظم بناؤ گے

اسلام آباد اصل میں منجی تھلے ڈانگ پھیرنے کا وقت اب آیا جس کے بارے میں فردوس عاشق اعوان نے بہت پہلے بے وقت کی راگنی الاپی تھی اس کا اصل مصرف اب سامنے آیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان منجی تھلے ڈانگ پھیریں اور گندے انڈوں کا صفایا کریں۔ اعتماد کا ووٹ لینے کا فیصلہ تو عمران خان نے کر لیا ہے مگر یہ ان لوگوں کی چاندی کا موقعہ ہے کہ جو شیروانی پہننے کے لیے”اتاولے“ہوئے جا رہے تھے اور ا سکے لیے کافی عرصے سے منصوبہ بندی کرنے کے ساتھ ساتھ بیک ڈور رابطوں میں بھی مصروف تھے۔
پی ٹی آئی پر اس وقت مشکل ترین وقت آ چکا ہے کہ ان کی جماعت کے کئی لوگوں نے بغاوت کر دی ہے جس وجہ سے سینیٹ میں بھی انہیں اپ سیٹ ہوا ہے اور اب عدم اعتماد کی تحریک میں بھی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔تاہم اس موضوع پر روشنی ڈالتے ہوئے سینئر صحافی اور تجزیہ کار ڈاکٹر شاہد مسعود نے اپنے پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی جماعت میں کرپٹ لوگ بہت زیادہ ہیں اور وہ ان کی جگہ پر وزیراعظم بننے کے لیے تیار ہیں اور ان لوگوں سے متعلق وزیر اعظم عمران خان کو پتا ہونا چاہیے کہ ماضی میں کون کون سے لوگ وزیراعظم بننے کا خواب دیکھتے رہے ہیں اور وہ دوسری پارٹیوں سے پی ٹی آئی میں شامل ہوئے ہیں۔اس حوالے سے عمران خان صاحب کو ایجنسیوں کی سہولت حاصل کرنی چاہیے اور ساری انفارمیشن لینی چاہیے۔عمران خان صاحب کو اگر خطرہ ہے تو ان کی اپنی صفوں کے اندر سے ہے اور ان کی کیبنٹ میں الیکٹڈ اور نان الیکٹڈ کئی لوگ وزارت عظمیٰ کے لیے خواہشمند ہیں۔خان صاحب نے بھی ماضی میں ایسے ہی لوگوں کے بارے میں کہا تھا کہ میرے علاوہ کوئی اور آپشن نہیں ہے کیا ان کرپٹ لوگوں کو وزیراعظم بناؤ گے۔اب وہ سبھی لوگ ایکٹو ہیں اور ایک صفحے کے پیچھے انہوں نے پناہ لے رکھی ہوئی ہے اور عمران خان کو ان سب لوگوں پر نظر رکھنی چاہیے

کرونا کی بڑھتے کیسز، پی ایس ایل 6 ملتوی کراچی کنگز کے ڈین کرسچن کا پی ایس ایل 6 سے دستبرداری کا فیصلہ

کراچی کورونا کے بڑھتے کیسز کے باعث پاکستان کرکٹ بورڈ نے پی ایس ایل کے چھٹے ایڈیشن کو ملتوی کردیا ہے ۔ پاکستان کرکٹ بورڈ اور ٹیموں کے مالکان کے درمیان ایک ورچوئل میٹنگ ہوئی جس میں پی ایس ایل 6 کو فوری طورپر ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس کا پی سی بی کی جانب سے باضابطہ اعلان کیا گیا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے پی ایس ایل 2021ء میں کورونا کے بڑھتے کیسز کے باعث ایونٹ کو فوری طور پر غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کیا کردیا ہے۔پاکستان سپر لیگ میں اب تک کورونا کے 7 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں جس کی وجہ سے کراچی کنگز کے آسٹریلین کھلاڑی ڈین کرسٹین بھی پی ایس ایل کو چھوڑ چکے ہیں جس کی تصدیق پی سی بی کی جانب سے بھی کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان سپر لیگ کے چھٹے ایڈیشن کا آغاز 20 فروری سے ہوا تھا اور ایونٹ میں اب تک 14 میچز کھیلے جا چکے ہیں۔ اسلام آباد یونائیٹڈ کے 4 ، لاہور قلندرز کا ایک اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کا ایک کھلاڑی اور ایک آفیشل کے اب تک کورونا میں مبتلا ہونے کی تصدیق ہوئی ہے

ایوان سے اعتماد کا ووٹ لینے کی کوئی ضرورت نہیں ہےوزیراعظم عمران خان کے قریبی ساتھی کا مشورہ ، وزیراعظم نے قریبی ساتھی کی بات رد کر دی

اسلام آباد سینیٹ انتخابات میں گذشتہ روز بڑا اپ سیٹ ہونے کے بعد وزیراعظم عمران خان سے استعفے کا مطالبہ کیا جانے لگا جس کے بعد وزیراعظم عمران خان نے ایوان سے اعتماد کا ووٹ لینے کا فیصلہ کیا تھا۔ نجی ٹی وی چینل کے مطابق ذمہ دار ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان کو ان کے ایک قریبی دوست نے مشورہ دیا کہ ایوان سے اعتماد کا ووٹ لینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ پی ٹی آئی کی خاتون امیدوار فوزیہ ارشد کو 174 ووٹ ملے ہیں اور وہ اسلام آباد سے کامیاب ہوئی ہیں، لیکن عمران خان نے ان کی بات کو رد کر دیا اور اپنی بات پر قائم رہتے ہوئے ایوان سے اعتماد کا ووٹ لینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔اس حوالے سے گذشتہ روز وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت پارٹی رہنماؤں کا اجلاس ہوا۔وزیراعظم عمران خان نے اپنی زیرصدارت ہونے والے اجلاس میں شرکا سے کہا کہ جس کو ان پر اعتماد نہیں سامنے آکر اظہار کرے۔ عمران خان نے کہا کہ اگر عوامی نمائندوں کو مجھ پر اعتماد نہیں تو کھل کر سامنے آئیں۔ میرے لیے وزیراعظم کا عہدہ اہم نہیں نظام، کی تبدیلی میرا مشن ہے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے اجلاس کے شروع میں ہی اعتماد کا ووٹ لینے کے فیصلے سے شرکا کو آگاہ کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اعتماد کا ووٹ لینے کا مقصد پیسے کی سیاست کو بے نقاب کرنا ہے۔ فیصلہ کیا ہے کہ اسی ایوان سے اعتماد کا ووٹ حاصل کروں گا۔ اجلاس کے بعد وفاقی وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے دیگر وزرا کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف نے متفقہ فیصلہ کیا کہ ایوان سے اعتماد کا ووٹ لیں گے، قوم کو پتہ چل جائے گا کون کہاں کھڑا ہے، جو عمران خان کے ساتھ ہیں وہ واضح دکھائی دیں گے،باقی اپوزیشن کی صفوں میں چلے جائیں ۔ذرائع نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے آرٹیکل 91 کے تحت صدر مملکت کو سمری بھیج کر قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کی درخواست کی جائے گی۔ تاہم بعد ازاں اعلان کیا گیا کی قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ پراجیکٹ پنجاب حکومت کے خلاف چارج شیٹ ثابت ہو گازمینداروں کی زمینیں ہتھیائے جانے کا گھناؤنا کھیل رچایا جارہا ہے،عوام سراہپااحتجاج

لاہور موجودہ حکوت نے کوئی واضح بڑا اور اہم ترقیاتی منصوبہ اس ڈھائی سال کے عرصہ میں مکمل نہیں کیا کہ جس کا کریڈٹ لیا جا سکے۔آ جا کر راوی اربن ڈویلپمنٹ پراجیکٹ ہی ہے کہ جس کا کام حکومت جلد سے جلد مکمل کرنا چاہتی ہے۔مگر وہاں بھی کرپشن اور بے ضابطگیوں کے معاملات کھل کر سامنے آ رہے ہیں،ایک طرف زمین کے مالکان ہیں جو حکومت کی ناانصافی پر سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں ا ور آئے دن احتجاج کرتے اور سرکاری دفاتر کی توڑ پھوڑ کرتے نظر آتے ہیں جن کی ویڈیوز بھی منظر عام پر آ رہی ہیں۔
زمین مالکان کا کہنا ہے کہ ان کی زمینیں اونے پونے دام خریدی جا رہی ہیں اور یہ ان کے ساتھ زیادتی کی جارہی ہے جس حوالے سے انہوں نے کورٹ میں بھی کیس دائر کررکھا ہے اور دیگر فورمز پر بھی آواز اٹھا رہے ہیں۔جبکہ اسی حوالے سے نجی ٹی وی چینل کے اینکر عمران خان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ راوی اربن ڈویلپمنٹ پراجیکٹ حکومت کے خلاف چارج شیٹ ثابت ہو گا کیونکہ انویسٹرز نے پنجاب حکومت پر دباؤ ڈالا ہوا ہے کہ یہ زمینیں اونے پونے داموں خریدنی ہیں اور ان سب زمینیوں کو دریا برد کر کے ان کی لاگت کم سے کم ظاہر کرنی ہے تاکہ کل کو وہ خود پیسے کما سکیں پروگرام میں موجود ساتھی اینکر عارف حمید بھٹی نے کہاکہ میں بتاتا چلوں کہ اس پراجیکٹ میں پنجاب کے دو وزیروں نے بھی دو ڈھائی ارب روپے کی انویسٹمنٹ کی ہوئی ہے۔صحافی عمران خان نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان لوگوں سے اس بات پر ناراض ہو رہے ہیں کہ وہ تالیاں کیوں نہیں بجاتے اور بڑے فخر سے کہہ رہے ہیں کہ راوی اربن منصوبے میں انہوں نے اربوں روپے کی بچت کی ہے تو ان کی گزارش میں عرض ہے کہ کمائی حکومتیں نہیں کیا کرتیں وہ تو سہولت کار ہوتی ہیں اصل کمائی انویسٹرز کیا کرتے ہیں۔

اسرائیل نے مقبوضہ فلسطین میں کیا کھیل رچایا،منظر عام پر آنے لگاعالمی عدالت نے فلسطین میں اسرائیل کے جنگی جرائم کی تحقیقات شروع کردیں

جنیوا فلسطین میں اسرائیل جو کچھ کر رہا ہے وہ ساری دنیاکے سامنے ہے مگر معصوم فلسطینیوں کی شنوائی کہیں بھی نہیں ہو رہی۔تاہم بین الاقوامی فوجداری عدالت کی چیف پراسیکیوٹر نے کہا ہے کہ فلسطینی علاقوں میں مبینہ جرائم کی باضابطہ تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے جب کہ اسرائیل نے اس اقدام کی شدید مخالفت کی ہے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بین الاقوامی فوجداری عدالت کی پراسیکیوٹر فتوؤ بینسودا نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل کے فلسطین میں جنگی جرائم کے خلاف تحقیقات آزادانہ، غیر جانبدارانہ اور بغیر کسی خوف اور حمایت کے کی جائے گی۔فتوؤ بینسوڈا نے مزید کہا کہ اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کی تحقیقات کے لیے 2019 میں غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاری کی سرگرمیاں ٹھوس جواز مہیا کرتی ہیں۔دوسری جانب اسرائیل نے عالمی فوجداری عدالت کی جنگی جرائم کی تحقیقات کے آغاز کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ رکن نہ ہونے کی وجہ سے عدالت کا اسرائیل کیخلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کا اختیار نہیں رکھتی۔ادھر عالمی فوجداری عدالت نے اسرائیل کے اعتراض پر گزشتہ ماہ ہی فیصلہ دیا تھا کہ اسے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی صورتحال پر اختیار حاصل تھا جس پر اسرائیل نے 1967 کی مشرق وسطی کی جنگ کے دوران قبضہ کیا ہے۔
ججوں نے اپنے فیصلے میں مزید کہا تھا کہ ان کا فیصلہ ہیگ میں قائم عدالت کی بنیاد رکھنے والے دستاویزات کے دائرہ اختیار کے اصولوں پر مبنی ہے اور اس سے ریاست یا قانونی حدود کا تعین کرنے کی کسی کوشش کی ضرورت نہیں۔واضح رہے کی اسرائیل نے فلسطین پر 54 سالہ ناجائز قبضے کے دوران ظلم و بربریت کی تاریخ رقم کی ہے اور عالمی معاہدوں کو نظر انداز کرتے ہوئے یہودی آبادکاریوں میں اضافہ کیا جس میں سب سے زیادہ اضافہ نیتن یاہو کے دور حکومت میں ہوا ہے۔

اگر عبوری حکومت آئی تو تین سال کے لیے آئے گی جس میں صدارتی نظام نافذ کرنے کا منصوبہ بنایا جائے گا

لاہور سینیٹ الیکشن ہو چکے اس میں واضح برتری تو موجوہ حکومت پی ٹی آئی کے حصے میں آئی ہے مگر جس سیٹ پر سب سے زیادہ شور شرابا تھا وہ پی ڈی ایم لینے میں کامیاب ہو چکی ہوئی ہے۔یوسف رضا گیلانی اور حکومتی امیدوار حفیظ شیخ کے درمیان مقابلے کو دراصل اپوزیشن اور حکومت کے درمیان اصل مقابلہ تصور کیا جا رہا تھااور خیال یہی کیا جا رہا تھا کہ اگر یوسف رضا گیلانی جیت گئے تو وہ چیئرمین سینیٹ بن جائیں گے جس کے بعد اپوزیشن کے لیے عدم اعتماد کی تحریک لانا آسان ہو جائے گا مگر سینیٹ الیکشن کی شام ہی عمران خان نے وزیراعظم ہونے کے ناتے عدم اعتماد کا ووٹ لینے کا بذات خود اعلان کر دیا۔اب اس معاملے کا کیا نتیجہ نکلتا ہے اس کا فیصلہ تو وقت آنے پر ہو گا مگر یہ ثابت ہو گیا کہ معاملات کچھ بہتر نہیں ہیں بلکہ بگڑتے چلے جا رہے ہیں،اسی موضوع پر بات کرتے ہوئے ملک کے مایہ ناز قانون دان احمد رضا قصوری نے کہا کہ متعلقہ اداروں کو اپنا کردار ادا کرنے کا وقت آن پہنچا ہے کیونکہ ا س وقت ملک میں حکومت اور اپوزیشن اپنے ذاتی معاملات میں الجھی نظرا ٓتی ہے اور نیشنل انٹرسٹ کے حوالے سے کوئی لائحہ عمل دیکھنے کو نہیں مل رہا۔اگر اس دوران عبوری حکومت آتی ہے تو وہ کم سے کم تین سال کے لیے آئے گی اور اس دوران صدارتی نظام کو لانے ا ور اسے دس سال تک لاگو رکھنے کے حوالے سے کام کیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ جس بنیاد پر بنگلہ دیش الگ ہوا آج وہی حالات سندھ،بلوچستان اور پنجاب میں دیکھنے کو مل رہے ہیں۔کیونکہ یہاں بھی لسان اور کلچر کی بنیاد پر صوبوں کے نام رکھے گئے ہیں جنہیں ایمرجنسی بنیادوں پر ختم کرنے کی ضرورت ہے اور اس حوالے سے متعلق اداروں کو چاہیے کہ ایکٹو ہو کر کام کریں کہ کہیں ہم ہاتھ نہ ملتے رہ جائیں۔

اراکین اسمبلی کو 50 کروڑ کی پیشکش ، وزیر اعظم عمران خان کیخلاف کارروائی کا مطالبہ

اسلام آباد اراکین اسمبلی کو 50 کروڑ کی پیشکش ، وزیر اعظم عمران خان کیخلاف کارروائی کا مطالبہ کردیا گیا ، الیکشن کمیشن وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا نوٹس لے ، پاکستان پیپلزپارٹی نے الیکشن کمیشن کو خط لکھ دیا۔ تفصیلات کے مطابق پیپلزپارٹی کی جانب سے سیکریٹری جنرل نیئر حسین بخاری نے الیکشن کمیں کو خط لکھا جس میں انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا نوٹس لیا جائے کیوں کہ تحریک انصاف کی خواتین ارکان نے میڈیا پر کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے 50 کروڑ کے فنڈز دیے گئے ، اس بیان کی روشنی میں الیکشن کمیشن وزیر اعظم کے خلاف فوری کارروائی کرے۔یاد رہے کہ حکومتی ایم این ایز نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیراعظم نے ایم این اے فنڈز 15 سے بڑھا کر 50 کروڑکرنے کی بات کی ، نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی ایم این اے ڈاکٹر سیمی بخاری نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے ایم این اے فنڈز 15 سے بڑھا کر 50 کروڑکرنے کی بات کی ، یہ بات وزیراعظم نے پارلیمانی میٹنگ میں کہی تھی۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے اعلان پر سب نے تالیاں بجا کر ’ویلڈن وزیراعظم‘ کے نعرے لگائے ، اس سے پہلے ایم این اے بہت رو رہے تھے کہ ہمارے کام نہیں ہو رہے ، ایم این ایز کہہ رہے تھے کہ 50 کروڑ میں تو ہمارا سارا حقلہ سنور جائے گا۔جب کہ رکن اسمبلی روبینہ جمیل کے مطابق ابھی 15 کروڑ ریلیز ہوئے ہیں ، آئندہ کے لیے 50 کروڑ کا دعویٰ کیا گیا ، وزیراعظم کے اعلان پر ڈاکٹر حفیظ شیخ سمیت کسی نے اعتراض نہیں کیا ، انہوں نے پہلے طے کر کے ہی بات کی ہو گی ، ہم ن لیگ پر فنڈز کے غلط استعمال پر تنقد کرتے تھے لیکن اس کا آڈٹ کرائیں گے۔

شہباز شریف تو وزیراعلیٰ پنجاب بھی رہا ہے اورمیں ایم این اے ہونے کے ساتھ ہیومن رائٹس کمیٹی کا چیئرمین ہوں،ہماری ملاقات کو کیسے روکا جا سکتا ہے؟

اسلام آباد گزشتہ روز سینیٹ الیکشن میں اسلام آباد کی سیٹ پر یوسف رضا گیلانی کی کامیابی کو پی ڈی ایم اپنی اب تک کی سب سے بڑی کامیابی تصور کر رہی ہے۔ یوسف رضا گیلانی ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے متفقہ امیدوار تھے لہٰذا دونوں پارٹیوں نے ان کی جیت کا جشن منایا۔لہٰذا یوسف رضا گیلانی کی جیت کی مبارکباد دینے کے لیے بلاول بھٹو شہباز شریف سے ملنے کے لیے ان کی رہائش گاہ پر گئے مگر پولیس اہلکاروں نے انہیں ملاقات کرنے سے روک دیا۔
اس معاملے کی ویڈیوا منظر عام پر آ چکی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بلاول بھٹو سابق وزیراعلیٰ شہباز شریف کی رہائشگاہ کے باہر پہنچے جہاں انہیں ن لیگ کے راہنما احسن اقبال نے خوش آمدید کہااور اپنے ساتھ لے کر میاں شہباز شریف کی رہائش گاہ کی طرف ا ٓگئے جن کے گیٹ کے باہر تعینات پولیس اہلکار سامنے آ گئے۔بلاول بھٹو نے بڑے اچھے انداز میں پولیس اہلکار کے ساتھ دعا سلام کی اور آنے کا مقصدبتایامگر پولیس اہلکار نے یہ کہتے ہوئے معذرت کرلی کہ شہباز شریف سے ملنے کے لیے آپ کو وزارت داخلہ سے اجازت لینا ہو گی۔اس پر بلاول بھٹو گویا ہوئے کہ شہباز شریف تو پنجاب کے وزیراعلیٰ بھی رہ چکے ہیں ان کی ملاقات تو بند نہیں ہونی چاہیے تھی اور دوسری بات یہ کہ میں ہیومن رائٹس کمیٹی کا چیئر مین ہوں میں اس بات کا نوٹس بھی لے سکتاہوں کہ قیدی سے ملنے سے کیسے اور کیوں روکا جا سکتا ہے۔تیسری بات یہ کہ میں ایم این اے ہوں اور کوئی بھی ایم این اے اس بات کا حق رکھتا ہے کہ وہ کسی بھی وقت کسی بھی جیل کا وزٹ کر سکتا ہے۔اس پر پولیس اہلکار خاموش کھڑارہااور کہا کہ آپ وزارت داخلہ سے اجازت نامہ لے لیجیے جس پر بلاول بھٹو ان کا شکریہ ادا کرنے کے بعد ملاقا ت کیے بغیر واپس لوٹ گئے۔